دیس میں رہنے والوں کسی پردیسی سے پوچھوں
کہ دیس کیا ہوتا ہے
اپنوں سے خفا ہونے والوں کسی پردیسی سے پوچھو
کہ اپنوں کا ساتھ کیسا ہوتا ہے
ہر خوشی ہر غم میں بھی اپنوں سے دور رہنا کیسا ہوتا ہیں
پاس جانا چاہوں بھی تو نہ جا سکوں اس دوری کا احساس تبھی ہوتا ہے
اک پردیسی نے کہا میری ماں ہر پل میرے ساتھ رہتی تھی
کیونکہ مجھے اندھرے میں ڈر لگتا تھا
پر آج یہ کیسا منظر ہے آندھی ہیں طوفان ہیں اندھیرا ہے
اور میں اکیلا ہوں
اچانک سے ماں کا فون آگیا ماں نی پوچھا بیٹا کیسے ہو
میں چپ رہا کچھ نہ کہا
کہا تو بس اتنا کہا کہ ماں میں پردیسی ہوں میں پردیسی ہوں
میں ماں سے کیسے کہتا کہ آج سخت اندھیرا ہے
مجھے تنہائی نے آگھیرا ہے
کوئی نہیں ہے اپنا میرے پاس سوائے ان پلوں کے
جو اپنوں کے ساتھ گزارے ہیں
پردیس کا عالم تو وہی جانے جس نے تنہائی میں
اپنوں کی جدائی میں اپنی زندگی کے کچھ پل گزارے ہیں
Thursday, July 19, 2018
Sad Poetry - پردیس کا عالم
Poet: A F
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Kese sukoon paon tujhe dekhne ke baad. Ab kia ghazal sunaon tujhe dekhne ke baad. Awaaz de rahi hai meri zindagi mujhe. Main jaon ya na jaon...
-
Poet: Abid Hussain Saqib تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں میرا غم لازوال کرتی ہیں ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں دیکھ لیں گر ی...
No comments:
Post a Comment