گزرتا سال ہے
اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن
زرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے
اگر طے ہے یہی ہونا
تو پھر کس بات کا خدشہ
تو پھر کس بات کا رونا
چلو مل بیٹھ کے اپنے خسارے بانٹ لیتے ہیں
سبھی رنگ اور جگنو اور ستارے بانٹ لیتے ہیں
گزرتا سال ہے
اور سال کا یہ آخری دن ہے
ابھی کچھ دھوپ ہے لیکن
زرا سی دیر کو طے ہے کہ آخر شام ہونی ہے
حقیقت یا کہانی جو بھی ہے انجام ہونی ہے
اگر طے ہے یہی ہونا
تو کیوں ناں شام سے پہلے
کسی انجام سے پہلے
بھلا کر ہر پریشانی
جھٹک کر ہر تکلف کو
جو کچھ گھڑیاں میسر ہیں
انہی میں زندگی کر لیں
کسی احساس کی شمعیں جلا کر
ان اندھیروں میں
کوئی دم روشنی کرلیں
چلو ہم دوستی کرلیں
Tuesday, January 17, 2017
Friendship Poetry - دوستی
Poet: Abrar Nadeem
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Kese sukoon paon tujhe dekhne ke baad. Ab kia ghazal sunaon tujhe dekhne ke baad. Awaaz de rahi hai meri zindagi mujhe. Main jaon ya na jaon...
-
Poet: Abid Hussain Saqib تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں میرا غم لازوال کرتی ہیں ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں دیکھ لیں گر ی...
No comments:
Post a Comment