جہاں میں ہوں
وہاں زی نفس کوئی نہیں رہتا
سو اس کارواں سخت جاں کے
جو اپنی سرزمین
دشمن کے ناپاک قدموں سے بچانے کو
ان اونچے کوہساروں، برف زاروں پر اتر آیا
جہاں میں ہوں
وہاں پر برف اندر برف اگتی ہے
ہوائیں سرد اتنی کہ موسم تھر تھرا اٹھیں
جہاں پر برف کی چادر رگوں کو سرد کرتی ہے
جہاں پر زندگی کرنے کے امکاں ٹوٹ جاتے ہیں
جہاں میں ہوں
وہاں پارا نہیں اٹھتا
جہاں بچوں کی باتوں کا کوئی جھرنا نہیں بہتا
جہاں بوڑھوں کی لاٹھی کا کئی ٹک ٹک نہیں سنتا
جہاں میں ہوں
وہاں پرندے، تتلیاں، جگنو صرف اسی صورت آتے ہیں
کہ جب اپنوں کے خط آئیں
عدو کی بے حسی دیکھو
کہ اس اندھی بلندی پر
نہ جانے کتنے سالوں سے
کسی بارود کی صورت ہمارا رزق آتا ہے
میرے یہ نوجواں ساتھی کہ جن کے عزم کا پرچم
ہمالہ سے بھی اونچا ہے
یہ برفانی فضاؤں میں
مخالف سمت سے آتی ہواؤں سے بھی لڑتے ہیں
دلوں میں یہ ارادہ ہے، لبوں پر یہ دعائیں ہیں
کہ پرچم اور وردی کا یہاں پر مان اونچا ہو
اس پاک ملت کا نام اونچا ہو
Sunday, October 27, 2019
General Poetry - سیاچن
Poet: Muhammad Shahzad Nayyer
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Ab Ki Bar Main Jab Giya Susral Na Wo Khushi Na Wo Istakbal Na Sas Ka Wo Matha Chumna Na Salon Ki Nazron Main Piyar Saliyan Jaysy Gunghi By...
-
Poet: Hafeez Javed عجب پھول دیکھا میں نے گلاب بہت ہی پیارا، بہت ہی نایاب کلیاں اس کی چنچل اور شوخ اڑائیں دل والوں کے یہ ہوش کبھی محبوب کے ہو...
No comments:
Post a Comment