درد کی پتھریلی زمیں میں
خواہشوں کے پھول اگانے والے
لاکھ سینچے تو اپنے لہو سے ان کو
کوئی غنچہ نہیں کھلنے والا
پتھروں میں تو مٹی کی خو نہیں ہوتی
پھول سنگم ہے رنگ خوشبو اور نزاکت کا
رنگ تو دو گے اپنی خواہش کے
خوشبو اور نازکی کہاں سے لاؤ گے
پتھروں سے بنائے غنچوں میں
رنگ ہوتے ہیں بو نہیں ہوتی
میں بھی یہ خواب دیکھا کرتا تھا
جو تیری آنکھ میں نظر آئے
میں تو ان کوششوں سے ہار گیا
چھوڑ دے تو بھی لاحاصل سعی
زندگی اب صلہ نہیں دیتی
خواب ایسے تھے میری آنکھوں میں
پھول میں بھی بنایا کرتا تھا
رنگ ان کے بھی خوبصورت تھے
پر نزاکت کہاں سے لاتا میں
خوشبو ان میں مجھے کبھی نہ ملی
تھک گیا میں تو یہ سمجھ پایا
لوچ رنگ و نزاکت و خوشبو
یہ تو شامل ہیں میری مٹی میں
پتھروں سے میں سر کو پھوڑا کیا
یہ تو اپنی ہی بھول تھی میری
میری کوشش کو اک مثال سمجھ
پتھروں سے تو کھیل سکتا ہے
ان میں جذبات بھر نہیں سکتا
اپنی مٹی سے دل لگا جاناں
مجھ کو بھی اس میں ہی پناہ ملی
Sunday, October 21, 2018
Love / Romantic Poetry - سنگ تراش
Poet: Wamiq Kakakhel
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Ab Ki Bar Main Jab Giya Susral Na Wo Khushi Na Wo Istakbal Na Sas Ka Wo Matha Chumna Na Salon Ki Nazron Main Piyar Saliyan Jaysy Gunghi By...
-
Poet: Hafeez Javed عجب پھول دیکھا میں نے گلاب بہت ہی پیارا، بہت ہی نایاب کلیاں اس کی چنچل اور شوخ اڑائیں دل والوں کے یہ ہوش کبھی محبوب کے ہو...
No comments:
Post a Comment