سنو کچھ تو کہو جاناں
یوں کیوں خاموش بیٹھے ہو
لگائے روگ بیٹھے ہو
یہ چپ اب توڑ ڈالو تم
تمہارے دل میں جو کچھ ہے
وہ اب تو کہہ بھی ڈالو تم
یونہی خاموش رہنے سے
مسائل حل نہیں ہوتے
خلا میں دیکھنے سے جاں
کبھی یھ وقت نہیں رکتا
یہ چند گنتی کے لمحے ہیں
انہیں یوں نہ گنواؤ تم
مجھے معلوم ہے تم بھی
اسی دوری سے ڈرتی ہو
کہ جس کا سوچ کر میں بھی
بہت مایوس ہوتا ہوں
ُُُپر اب یہ ہجر تو جاناں
مقدر میں ہمارے ہے
مگر پھر بھی یہ سوچو تم
محبت کا حسیں بندھن
ہمارے بیچ پھیلا ہے
یہ وہ بندھن کہ میں اور تم
اگر کچھ دیر کو سوچیں
حسیں اک خواب لگتا ہے
اسی اب خواب کہ بل پہ
ہمیں یہ ہجر مٹانا ہے
محبت میں کبھی دیکھو
ہجر وقعت نہیں رکھتا
جو دوری سہہ نہیں سکتا
محبت کر نہیں سکتا
Sunday, April 7, 2019
Love / Romantic Poetry - آخری ملاقات
Poet: Obaid Ullah
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Kese sukoon paon tujhe dekhne ke baad. Ab kia ghazal sunaon tujhe dekhne ke baad. Awaaz de rahi hai meri zindagi mujhe. Main jaon ya na jaon...
-
Poet: Abid Hussain Saqib تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں میرا غم لازوال کرتی ہیں ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں دیکھ لیں گر ی...
No comments:
Post a Comment