ہوا کے ہاتھ ایک پیغام
اُسے کہنا
ابھی تک دل دھڑکتا ہے ابھی تک سانس چلتی ہے
ابھی تک یہ میری آنکھیں
سہانے خواب بُنتی ہیں
میرے ہونٹوں کی جُنبش میں
تمہارا نام رہتا ہے
ابھی بارش کی بوندوں میں
تمہارا پیار باقی ہے
اُسے یہ بھی بتا دینا
ابھی اظہار باقی ہے
ابھی یادوں کے کانٹوں سے
میرا دامن اُلجھتا ہے تمہارا پیار سینے میں
کہیں اب بھی دھڑکتا ہے
ہوا اب بھی موافق ہے
ہمارے ساتھ چلتی ہے
اُسے کہنا جُدائی کا ابھی موسم نہیں آیا
محبت کی کہانی میں کہیں غم نہیں آیا
مگر سب کچھ بدلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
کسی کی یا د ڈھلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
نیا سورج نکلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
اُسے کہنا
وہ جلدی فیصلہ کر لے
نئے رستوں پہ چلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
Thursday, November 22, 2018
Love / Romantic Poetry - ایک پیغام
Poet:
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Ab Ki Bar Main Jab Giya Susral Na Wo Khushi Na Wo Istakbal Na Sas Ka Wo Matha Chumna Na Salon Ki Nazron Main Piyar Saliyan Jaysy Gunghi By...
-
Poet: Hafeez Javed عجب پھول دیکھا میں نے گلاب بہت ہی پیارا، بہت ہی نایاب کلیاں اس کی چنچل اور شوخ اڑائیں دل والوں کے یہ ہوش کبھی محبوب کے ہو...
No comments:
Post a Comment