ترک تعلق
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
ذہن و دل کو صرف انا کے ہاتھوں گروی رکھ دینے سے
خود کو اپنے کمرے میں بند کر لینے سے
بستر پہ اوندھے منہ لیٹے
بین کریں جب یادیں
رشتوں کی میت پہ رو لینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
آنکھوں کے چوگردی حلقے
سارے راز اگل دیتے ہیں
ساری خوشیوں کےسپنے
اپنے اپنے رستے لیتے ہیں
ترک تعلق
ایسےتھوڑی ہو جاتا ہے
وصل کے لمحے
ہجر کے برسوں کو لوٹانے پڑتے ہیں
اور خوشیوں کے لے پالک بچے
وحشی غم کے پنجوں میں دینے پڑتے ہیں
نام وفا پہ
جتنی جھوٹی قسمیں کھائیں
ان کا بھی کفارہ دینا پڑتا ہے
بس خط واپس کر دینے سے
یا تحفے واپس کردینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
Monday, December 2, 2019
Love / Romantic Poetry - ترک تعلق
Poet: Yaseen Shahi
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Kese sukoon paon tujhe dekhne ke baad. Ab kia ghazal sunaon tujhe dekhne ke baad. Awaaz de rahi hai meri zindagi mujhe. Main jaon ya na jaon...
-
Poet: Abid Hussain Saqib تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں میرا غم لازوال کرتی ہیں ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں دیکھ لیں گر ی...
No comments:
Post a Comment