تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
ایک خاموش سادہ سا وہ آدمی
تیری راہوں میں آ کے جو رسوا ہوا
جس کی تقدیر کانٹوں سے لکھی گئی
جس کا دل چند لمحوں میں توڑا گیا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
وہ جسے اپنی ہستی کی خواہش نہ تھی
وہ جو تیری محبت کا دیوانہ تھا
وہ جسے دنیا والوں نے مجنوں کہا
تیری شمع کا جو ایک پروانہ تھا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
تو نہ آتی تھی جب ایک پل کو نظر
تو نظارے جسے لگتے ویران سے
وہ جسے تو نے پیغام الفت دیا
اپنی آنکھوں کی خاموش مسکان سے
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
وہ جسے تو نے چھوڑا ہے دریا کے بیچ
تیری سوچوں کو اب بھی ستاتا ہو گا
تجھ سے وابستہ تھا جس کا سارا جہاں
تیرے خوابوں میں اب بھی وہ آتا ہو گا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
ایک خاموش سادہ سا وہ آدمی
تیری راہوں میں آ کے جو رسوا ہوا
Wednesday, November 22, 2017
Love / Romantic Poetry - تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ھو گا
Poet: Muhammad Nawaz
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Kese sukoon paon tujhe dekhne ke baad. Ab kia ghazal sunaon tujhe dekhne ke baad. Awaaz de rahi hai meri zindagi mujhe. Main jaon ya na jaon...
-
Poet: Abid Hussain Saqib تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں میرا غم لازوال کرتی ہیں ڈوب جاتا ہوں جو ان میں کبھی کیسے کیسے سوال کرتی ہیں دیکھ لیں گر ی...
No comments:
Post a Comment