کسی گاوں میں رہتا تھا اک کسان
قریب المرگ تھا بیچارہ بڑا پریشان
کہتا تھا الله نے مجھے دیے ہیں سات بیٹے
مگر وہ آپس میں ہر وقت ہیں لڑتے
میں ان کی نااتفاقی کا علاج بھلا کیسے کروں
ٹھیک بگڑے ہوئے مزاج بھلا کیسے کروں
آگئی اک دن اس کے ذہن میں یہ ترکیب
کہا سات بیٹوں کو بلا کے اپنے قریب
امتحان مجھے آج تمہارا مقصود ہے
وقت اگرچہ میرے پاس ذرا محدود ہے
تم سب ایک ایک کر کے میرے سامنے آو
اور یہ پتلی سی ٹہنی ذرا توڑ کے دکھاؤ
کام مشکل نہ تھا سب نے فوراً دیا کر
اور ڈالی بوڑھے باپ پر فاتحانہ نظر
میں خوش ہوں کہ تم بڑے شہ زور ہو
مگر میری نظر میں بڑے کم زور ہو
بوڑھے نے سب ٹہنیوں کو ملا کر اکٹھا کیا
اور بیٹوں کے ہاتھ توڑنے کو وہ گٹھا دیا
باری باری سب نے زور اپنا آزمایا
ٹہنیوں کا گٹھا کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آیا
سنو میرے بیٹو بات میری غور سے سنو
مرضی کے مالک ہو تم جو چاہے کرو
اگر تم ٹہنیوں کی طرح جدا جدا رہو گے
کسی دشمن کے ہاتھوں سب کٹ مرو گے
تمہارے سامنے اس گٹھے کی بھی مثال ہے
افراد قوم بن جائیں تو اس کا مٹنا محال ہے
بات باپ کی بیٹوں کے دل میں گھر کر گئی
قریب المرگ بوڑھے کی تجربہ کاری وار کر گئی
اب سارے محبت و اتفاق سے رہتے تھے
کوئی بے اتفاق ملتا تو اس سے کہتے تھے
فرد بنے تو تباہی کو آخر پہنچ جاؤ گے
قوم بن کر عظمت جہاں کی پاؤ گے
قوم میری بھی عثمان افراد ہے کیسے انہیں بتاؤں
جو دل پہ انکی دستک دے بات ایسی کہاں سے لاؤں
Saturday, May 13, 2017
General Poetry - کسان کی نصیحت
Poet: Muhammad Usman
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
Hum Milay Hi Kyun They - General Poetry
Koi Be Sabab Tu Nahi Milta Kisi K Milny Ka Amny Samny Aany Ka Koi Maqool Thoos Jawaz Tu Hota Hai Tum Sey Milny K Baad Kuch Lamhey Munjmind H...
-
Poet: سنا ہے ہر چیز مل جاتی ہے خدا سے اک روز تمہیں مانگ کر دیکھں گے خدا سے
-
Ab Ki Bar Main Jab Giya Susral Na Wo Khushi Na Wo Istakbal Na Sas Ka Wo Matha Chumna Na Salon Ki Nazron Main Piyar Saliyan Jaysy Gunghi By...
-
Poet: Hafeez Javed عجب پھول دیکھا میں نے گلاب بہت ہی پیارا، بہت ہی نایاب کلیاں اس کی چنچل اور شوخ اڑائیں دل والوں کے یہ ہوش کبھی محبوب کے ہو...
No comments:
Post a Comment